تقليد كا رد قرآن سے

پہلی آیت:- پیچھے مت پڑو اس چیز کے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔(سورة بنی اسرائیل:36)

مقلد جو کام بھی کرتا ہے وہ اس گمان اور قیاس پر کرتا ہے کہ میرے امام نے ایسا کیا ہے ضرور ان کے پاس کوئی دلیل ہو گی۔۔۔۔۔اس بات پرعلماءکا اتفاق ہے کہ تقلیدعلم نہیں اور نہ مقلد عالم گردانا جاتا ہے تو بطور تقلید (دلیل جانےبغیر) کسی کی بات ماننا اس آیت کی رو سے ممنوع ٹھہرا۔ آیئے اب ہم اُن آئمہ سلف کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے سینکڑوں سال پہلے اس آیت سے تقلید کے رد پر استدلال کیا ہے

امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں
”التقلید لیس طریقاً ولا موصلاً لہ فی الاصول ولا فی الفروع وہو قول جمھود العقلائِ و العلماءخلافا لما یحکی عن الجھا الحشویہ والثعلبیة من انہ طریق الی معرفة الحق“ (تفسیر القرطبی :۲۲۱۲)
تقلید نہ علم کا راستہ ہے اور نہ ہی اصول و فروع میں علم تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، یہ قول تمام علماء اورعقلاء کا ہے جبکہ اسکے برعکس حشویہ اور ثعلبیہ تقلید کو حصولِ حق کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

امام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
”اجمع الناس ان المقلد لیس معدوداً من اھل العلم وان العلم معرفة الحق بدلیلہ“ (اعلام الموقعین:۲۶۰۲)
علماءکا اس بات پر اجماع ہے کہ مقلد کا شمار علماءمیں نہیں ہوتاکیونکہ علم دلیل کے ساتھ معرفت ِحق کا نام ہے (جبکہ تقلید بغیر دلیل اقوال و آراءکو مان لینے کا نام ہے)۔

مزید لکھتے ہیں

”وقد اجمع العلماءعلی ان مالم یتبین فلیس بعلم وانماہوظن لا یغنی من الحق شئاً“ (اعلام المو قعین:۲۹۹۱)
علماءکا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو بات یقینی طور پر دلائل سے ثابت نہ ہووہ علم نہیں ہے بلکہ گمان ہے اور گمان کے ذریعے حق کا حصول نا ممکن ہے۔

امام شوکانی رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں
”ومعنی الایة النھی عن ان یقول الانسان ما لا یعلم او یعمل بما لا علم لہ بہ و یدخل فیہ الآ راءالمدونة فی الکتب الفروعیة مع انھا لیست من الشرع فی شی ئٍ وتدخل تحت ھذہ الآیة“ (ملحضاً فتح القدیر:۳۷۲۲)
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان وہ بات نہ کرے جس کے بارے میں اس کو علم نہ ہو اور نہ اس بات پر عمل کرے جس کے بارے میں وہ کچھ نہ جانتا ہو اور مسائل میں جو کتابیں مقلدین نے لکھی ہیں وہ اسی زمرے میں آتی ہیں یعنی وہ دین کا حصہ نہیں ہیں

اس کے علاوہ درج ذیل علماءنے اس آیت سے تقلید کے باطل ہونے پر استدلال کیا ہے

امام غزالی (المستصفٰی من علم الاصول:۲۹۸۳)
امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ (الرد علی من اخلدالی الارض ص:۵۲۱تا۰۳۱)

یہی وجہ ہے کہ علامہ زمحشری نے اپنی کتاب ”اطواق الذھب“ میں مقلدین کی جہالت پر کچھ یوں تبصرہ کیا ہے: ”ان کان للضلال اُم فالتقلید امہ فلا جرم ان الجاھل یومہ“ یعنی اگرگمراہی کی کوئی ماں ہوتی تو تقلید اُس کی بھی ماں کہلاتی یہی وجہ ہے کہ جاہل ہی تقلید کا قصد کرتا ہے۔(العیازباللہ)

دوسری آیت:- اتخذواحبارہم ورہبانہم ارباباًمن دون اللہ (سورہ التوبہ ایت:31)
ترجمہ:- انھوں نے اپنے احبار (مولویوں) اور رحبار(پیروں) کواللہ کے سوا رب بنا لیا

اس آیت کی تفسیر نبی علیہ الصلاة والسلام نے خود فرمائی ہے،
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ (جو اسلام قبول کرنے سے قبل عیسائی تھے) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ الصلاة والسلام کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ الصلاة والسلام ہم نے ان کی کبھی بھی عبادت نہیں کی اور نہ ہم مولویوں اور درویشوں کو رب مانتے تھے تو نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا:
اما انھم لم یکونوایعبدونھم ولکن ھم اذا احلو الھم شیئا استحلو واذاحرمواعلیھم شیئا حرموھ
وہ اپنے علماءکی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب ان کے علماءکسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو وہ اسے حلال کر لیتے اور جب وہ کسی چیز کو حرام قرار دیتے تو وہ بھی اسے حرام تسلیم کر لیتے (سنن ترمذی مع تحفة الاحوزی ص:۷۱۱ج۴)
اس آیت سے درج ذیل علماءنے تقلید کے رد پر استدلال کیا ہے:
1:- امام ابن عبد البررحمہ اللہ(جامع بیان العلم وفضلہ جلد :۲صفحہ :۹۰۱)
2:- امام ابن حزم رحمہ اللہ (الاحکام فی الاصول الاحکام جلد:۶صفحہ:۳۸۲)
3:- امام ابنِ القیم رحمہ اللہ(اعلام الموقعین جلد:۲ صفحہ ۰۹۱)
4:- امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ(باقرارہ، الردعلیٰ من اخلدالی الارض صفحہ ۰۲۱)
۵)امام الخطیب البغدادی رحمہ اللہ (الفقیہ المنفقہ جلد :۲صفحہ:۲۲)

نوٹ: مقلدین اس آیت پر یہ اعتراض اٹھا سکتے ہیں کہ یہ آیت تو یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہے۔۔۔۔تو اس کا جواب حاضرِ خدمت ہے

پہلا جواب: ” العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب“ یعنی لفظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے نہ کے سبب کے خصوص (شانِ نزول) کا۔ اگر ایسا نہ ہو یعنی اگر لفظ کے عموم کا اعتبار نہ کیا جائے تو پھر قرآن مجید کی کوئی آیت ہم پر صادق نہیں آئے گی۔

دوسرا جواب: نبی علیہ الصلاة والسلام نے ارشاد فرمایا: لتتبعن سنن من کان قبلکم (بخاری،مشکوة ۸۵۴) کہ تم ضرور میرے بعد یہود و نصاریٰ کے طریقہ کار کو اختیار کرو گے اور حقیقت یہی ہے کہ جس طرح انہوں نے اپنے علماءاور پیروں کو شارع کی حیثیت دی اسی طرح اس امت کے مقلدین نے بھی اپنے اماموں کو وہی حیثیت دے دی۔

تیسرا جواب: اس آیت سے ہر دور میں علماءنے تقلید کے رد پر استدلال کیا ہے چنانچہ امام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وقداحتج العلماءبہذھ الایات فی ابطال التقلید ولم یمنعھم کفر اولئک من الاحتجاج بھا، لا¿ن التشبیہ لم یقع من جھة کفر احدھماوایمان الاخر، وانماوقع التشبیہ بین المقلدین بغیر الحجة للمقلد۔۔۔۔“ (اعلام الموقعین ج:۲ ص۱۹۱)
علماءنے ان آیات کے ساتھ ابطال ِ تقلید(تقلید کے باطل ہونے) پراستدلال کیا ہے، انہیں (ان آیات میں مذکورین کے) کفر نے استدلال کرنے سے نہیں روکا، کیونکہ تشبیہ کسی کے کفر یا ایمان کی وجہ سے نہیں ہے، تشبیہ تو مقلدین میں بغیر دلیل کے(اپنے) مقلد(امام،راہنما) کی بات ماننے میں ہے۔

تیسری آیت:- آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم ( اپنے عمل و اعتقاد میں ) سچے ہو تو دلیل لاﺅ۔ (البقرة۔۱۱۱)

لیکن ہر زمانے میں یہی دستور رہا کہ جب بھی مقلد سے اس کے عمل پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو وہ بجائے دلیل لانے کے اپنے آباءو اجداد اور بڑوں کا عمل دکھاتا کہ یہ کام کرنے والے جتنے بزرگ ہیں کیا وہ سب گمراہ تھے؟ ہم تو انہی کی پیروی کریں گے۔ بالکل یہی بات قرآن کریم سے سنئیے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔ (سورةلقمان۔12)
بالکل اسی طرح آج بھی کسی مقلدسے جب کہا جاتا ہے کہ بھائی اللہ تعالیٰ کا قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ ولیہ وسلم کی حدیث تو یوں کہتی ہے تو وہ جواب میں یہ کہتا ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ھدایہ پر عمل کرتے ہوئے پایا ہے اور ہمارے لئے یہی کافی ہے۔ یہی حال قرآن کریم کی زبان سے سنیئے۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف رجوع کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے﴿ (سورة المائدة 104)
اب مقلدین کچھ بھی کہہ لیں لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے:
قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ۔ (النساء65)
یہ آیت بتا رہی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے راضی نہیں ہیں وہ لوگ کبھی مومن نہیں بن سکتے۔غرض یہ آیت تقلید کے باطل ہونے کی ایک زبردست دلیل ہے۔ اس آیت سے درج ذیل علماءنے تقلید کے ابطال پر استدلال کیا ہے۔
1:- امام ابنِ حزم رحمہ اللہ (الاحکام۶۵۷۲)
2:- امام غزالی (المستصفیٰ۲۹۸۳)
امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ (الرد علی من اخلدالی الارض ص۰۳۱)

About ranaawaiss

The Prophet :saw: said: ?I have left two things among you, as long as you hold fast to them you will never go astray. They are the Book of Allaah and the Sunnah of His Messenger' (Al-Muwatta)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: