کیا تقلید شرک ہے؟

تقلید کو شرک ہم تقلید کی وجہ سے نہیں بلکہ شرکیہ عقائد کی وجہ سے کہتے ہیں:
امام قاضی ابن ابی العز شارح عقیدہ طحاویہ لکھتے ہیں:
“فطاءفۃ قد غلت ری تقلیدہ فلم تترک لہ قولا و انزلوہ منزلۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم وان اورد علیہم نص مخالف قولہ تاولوہ علی غیر تاویلہلید فعوہ عنہم” (الاتباع ص30)

یعنی ایک گروہ نے تقلید میں غلو کیا ہے وہ ان کا کوئی قول ترک نہیں کرتے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام ٹھہرا دیتے ہیں، اگر ان کے قول کے خلاف کوئی نص ان کے سامنے پیش کی جائے تو وہ اس کی غیر مناسب تاویل کرتے ہیں تاکہ ان کا دفاع کیا جا سکے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“وتری العامۃ سیما الیوم فی کل قریۃ ینقیدون بمذھب من مذاھب المتقدمین ویرون خروج الانسان من مذھب من قلدہ ولو فی المسئلۃ کالخروج من الملۃ کانہ نبی بعث الیہ و افترضت طاعتہ علیہ”
(تفھیمات ص151، ج1)
یعنی ہر شہر میں تم عام لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ متقدمین میں سے کسی ایک کے مذھب کی پابندی کرتے ہیں اور کسی انسان کا اپنے امام کے مذہب سے خروج اگرچہ وہ ایک مسئلہ میں ہی کیوں نہ ہو، ملت سے خروج کی طرح خیال کرتے ہیں گویا کہ وہ امام ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیاہے، اور اس کی اطاعت ان پر فرض کی گئی ہے۔

مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی سورہ بقرہ آیت:165 کے تحت فرماتے ہیں:
“ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادًا (اصناما اور رؤساءہم الذین کانوا یطیعونہم اوما ھو اعم منھا یعنی کل ما کان مشغلا عن اللہ تعالیٰ مانعا عن امتثال او امرہ یحبونھم یعظونھم ویطیعونھم کحب اللہ کتعظیمھم للہ ای یسوون بینہ و بینھم فی المحبۃ والطاعۃ)”
(تفسیر مظہری2/البقرہ:165)
یعنی اللہ تعالی کے علاوہ شریک بنانے کا مطلب ہے یا تو انہوں نے اصنام(بتوں) کو اللہ تعالی کا شریک بنا لیا اور پھر اپنے ان سرداروں کو جن کی وہ اطاعت کرتے تھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیا۔ ان شرکاء سے محبت کا یہ معنی ہے کہ وہ ان کی تعظیم کرتے تھے اور اطاعت کرتے تھے جیسا کہ مومن اللہ تعالی کی تعظیم کرتے ہیں تو انہوں نے اللہ تعالی اور ان شرکاء کو اطاعت اور محبت میں برباد کر دیا۔

مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“من یکون عامیا ویقلد رجلا من الفقھاء بعینہ یرٰی انہ یمتنع من مثلہ الخطا و ان ماقالہ ھو الصواب البتۃ واضمر فی قبلہ ان لا یترک تقلیدہ وان ظحر الدلیل علی خلافہ و ذالک ما رواہ الترمذی عن عدی بن حاتم انہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقراء اتخذوا احبارھم ورھبانھم ارباباً من دون اللہ قال انھم لم یکونو یعبدونھم ولکنھم کانو ازاحلّو الھم شیئاً استحذو واذا حرموا علیھم شیئاً ھرموہ”
(عقد الجید ص67، نیز حجۃ اللہ البالغہ ج1، ص155)
“جو عامی شخص فقہاء میں سے کسی ایک کی تقلید کرتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ اس جیسے فقیہہ سے غلطی ناممکن ہے اور جو اس نے کہا وہی صحیح ہے اور دل میں اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اس کی تقلید کو ہر گز نہیں چھوڑے گا اگرچہ دلیل اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ وہ بھی اس حدیث کا مصداق ہے جو امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ نے عدی بن حاتم سے نقل کی ہے کہ عدی ن حاتم فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت (اتخذو احبارھم ورھبانھم۔۔۔۔۔۔الخ) پڑھتے سنا۔ فرمایا کہ وہ اپنے علماء کی عبادت نہیں کرتےتھے [یعنی ان کو سجدہ وغیرہ نہیں کرتے تھے] لیکن جس چیز کو وہ حلال قرار دے دیتے حلال سمجھتے تھے اور جس کو حرام کہہ دیتے اس کو حرام سمجھتے تھے۔”

نوٹ: اکثر مقلدین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ آیت (اتخذو احبارھم ورھبانھم۔۔۔۔۔۔الخ) یہود و نصاریٰ کے بیان میں ہے کہ وہ اسلیے مشرک ٹھہرے کہ انہوں نے حلال اور حرام میں اپنے علماء اور درویشوں کے اقوال کو معیار ٹھہرا لیا تھا اس اعتراض کا جواب اوپر بیان کی گئی شاہ صاحب رح کی عبارت میں ہی موجود ہے۔ حلال اور حرام کا تعلق افعال سے ہے کیونکہ یہ دونوں لفظ افعال میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی سے منقول ہے:
“بعض مقلدین نے اپنے امام کو معصوم عن الخطا و مصیب و جوبا مفروض الاطاعت تصور کر کے عزم بالجزم کیا کہ خواہ کیسی ہی’حدیث صحیح‘ مخالف قول امام کے ہو اور مستند قول امام کا بجز قیاس امر دیگر نہ ہو پھر بھی بہت سے علل اور خلل حدیث میں پیدا کر کے یا اس کی تاویل بعید کر کے حدیث کو رد کر دیں گے ایسی تقلید حرام اور مصداق قولہ تعالٰی اتخذو احبارھم۔۔۔۔الخ اور خلاف وصیت آئمہ مرحومین ہے”
(فتاویٰ امدادیہ ص88،ج4، الکلام المفید ص305)

About ranaawaiss

The Prophet :saw: said: ?I have left two things among you, as long as you hold fast to them you will never go astray. They are the Book of Allaah and the Sunnah of His Messenger' (Al-Muwatta)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: